May 19, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
paris- AFP

فرانس کی سب سے معتبر یونیورسٹیوں میں سے ایک کے طلبہ نے اسرائیل کی غزہ میں جنگ ختم کرانے کے لیے جاری احتجاجی مظاہرے ختم کر دیے۔ تاہم اس دوران جنگ بندی کے حامیوں اور اسرائیلی جنگ کو جاری رکھنے کے حامیوں کے درمیان سڑکوں پر جھڑپیں ہوئی ہیں۔

امریکی یونیورسٹیوں میں مسلسل جاری احتجاجی مظاہرے بھی غزہ میں جنگ بندی کی حمایت کے لیے جاری ہیں۔ جن میں طلبہ کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی بھی بڑی تعداد شریک ہورہی ہے۔ امریکہ میں اب تک سینکڑوں طلبہ کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔

ادھر فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ‘انسٹیٹیوٹ آف پولیٹیکل سٹڈیز’ کی انتظامیہ نے امریکی یونیورسٹیوں میں غزہ جنگ کے اثرات پھیلنے سے روکنے کے لیے پیرس انتظامیہ کو ہدایات جاری کی ہیں۔ 150 سال پرانی اس یونیورسٹی میں غزہ جنگ مخالف طلبہ نے احتجاجی مظاہرے کیے اور دھرنے دیے۔

طلبہ کے یہ احتجاجی مظاہرے فرانسیسی حکومت کی اسرائیل اور غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ سے متصادم نظر آتے ہیں۔ حکومت کے لیے نوجوانوں اور خاص طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں میں یہ سوچ پیدا ہونا تشویش کی بات سمجھی جا رہی ہے۔

پچھلے دنوں طلبہ کے جنگ مخالف احتجاجی مظاہروں کو روکنے کے لیے انتظامیہ نے یونیورسٹی کے داخلے راستے بند کر دیے جبکہ طلبہ نے اپنے مظاہرین اور دھرنا دینے والے کارکنوں کے لیے احتجاجی کیمپ لگائے۔ جمعہ کے روز جنگ کی مخالفت میں نعرے لگانے والے سینکڑوں طلبہ یونیورسٹی سے باہر نکل آئے تو اسرائیل اور اسرائیلی جنگ کے حامی تقریباً 50 طلبہ نے ان مظاہرین کو زبردستی روکنے کی کوشش کی۔ جس کے نتیجے میں ہاتھا پائی ہوگئی۔ نتیجتاً پولیس کو جنگ مخالف مظاہرین کو روکنے کے لیے مداخلت کا موقع مل گیا۔

یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یونیورسٹی میں طلبہ کے امتحانات قریب ہیں۔ اس لیے یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ سے کہا ہے کہ انتظامیہ اسرائیل کے ساتھ اندرونی مکالمے کا آغاز کرے گی۔ لہذا طلبہ اپنا احتجاج ختم کر کے امتحانات کی تیاری کی طرف آجائیں۔

ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ اسرائیل اور اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ کے حامی طلبہ کے گروپ نے اس امر پر بہت خوشی کا اظہار کیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ مختلف تعلیمی ڈگریوں کے پروگراموں میں دو طرفہ تعاون کے لیے اندرونی رابطہ کاری شروع کرے گی۔ جس طرح کے امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی یا دیگر یونیورسٹیوں کے ساتھ موجود ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں روکنے کا بھی وعدہ کیا ہے۔ واضح رہے امریکی یونیورسٹیوں نے احتجاجی طلبہ کے خلاف تادیبی کارروائیاں کرتے ہوئے متعدد طلبہ کو معطل کیا ہے۔

یونیورسٹی کے ایڈمنسٹریٹر جین باسیرس نے اپنے ایک خط میں لکھا ہے کہ اس یونیورسٹی کا امریکہ کی کولمبیا یونیورسٹی کے ساتھ ایک ڈگری پروگرام مشترکہ چل رہا ہے۔ لہذا یونیورسٹی میں احتجاجی مظاہروں کی ایک وجہ یہ بھی سمجھ آتی ہے۔

فرانس ایک ایسا یورپی ملک ہے جس میں اسرائیل اور امریکہ کے بعد یہودیوں کی بہت بڑی تعداد آباد ہے۔ اسی طرح یہ یورپ میں مسلم آبادی رکھنے والا بھی سب سے بڑا ملک ہے۔ اس لیے اسرائیل کی غزہ میں جاری جنگ جس کے نتیجے میں اب تک 34356 فلسطینی جاں بحق ہوچکے ہیں۔ یورپ کے کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں یہاں زیادہ محسوس ہو سکتے ہیں کہ ان 34356 ہلاک ہونے والے فلسطینیوں میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی ہے۔

امریکی یونیورسٹیوں میں جنگ مخالف احتجاج میں تیزی

نیو یارک میں امریکہ کی بڑی کولمبیا یونیورسٹی میں غزہ میں جنگ بندی کے حامی طلبہ کے مسلسل مظاہروں نے امریکہ کے دیگر تعلیمی اداروں کے طلبہ و اساتذہ کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ عام امریکیوں اور سوچنے سمجھنے والے ڈیموکریٹس کو بھی اپنے اثر میں لیا ہے۔ ان طلبہ کے یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ مذاکرات تعطل کا شکار ہوگئے ہیں۔ اس لیے اب وہ اپنا احتجاجی کیمپ جاری رکھنے کا ارادہ کیے ہوئے ہیں۔

اس سے قبل مسلسل دو روز تک جنگ بندی کے حق میں مطالبہ کرنے والے مظاہرین طلبہ اور امریکہ کی جنگ کی حمایت کرنے والی یونیورسٹی انتظامیہ کے درمیان مکمل دو روز تک مذاکرات جاری رہے۔ جن کا کوئی نتیجہ نہیں نکل سکا۔ اس وجہ سے کولمبیا یونیورسٹی کے صدر کو اساتذہ کی طرف سے سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ کیونکہ اگلے ماہ یونیورسٹی کی گریجویشن کی تقریبات ہونے جارہی ہیں۔ جس سے پہلے اس مسئلے کا حل نکالنا ضروری تھا۔

یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس کا کیلیفورنیا سے میسا چوسٹس تک کی تمام امریکی یونیورسٹی کیمپسز کو سامنا کرنا پڑ رہا ہے کہ یہاں کے طلبہ ایک طرف غزہ میں ہلاکتوں کی بڑھتی ہوئی تعداد پر ناراض ہیں اور دوسری طرف امریکہ کی جوبائیڈن انتظامیہ اسرائیلی فوج کے لیے نئے نئے فوجی و جنگی پیکج لا رہی ہے۔

جنگ بندی کے ان حامیوں کے مطالبے کو روکنے کے لیے یہود دشمنی قرار دے کر اچھالنے سے کافی فائدہ ہوا ہے۔ کہ جنگ بندی کے حامی طلبہ کی آواز نے اس وجہ سے اس سطح کی قبولیت نہیں پائی جو اسے یہود دشمنی کے ساتھ ٹیگ نہ کرنے کی صورت میں مل سکتی تھی۔ اس لیے ان کے مخالفین پوری شد و مد کے ساتھ جنگ مخالف مظاہرین کو یہود دشمن مظاہرین کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔

یونیورسٹی سینیٹ کی انتظامی کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق کولمبیا یونیورسٹی کے سربراہ کے غلط فیصلوں اور اقدامات نے صورتحال کو بگاڑنے میں کردار ادا کیا ہے۔ ان میں مظاہرین کو روکنے کے لیے یونیورسٹی کے اندر پولیس کو بلانا اور اساتذہ سے مشورہ کیے بغیر طلبہ کی گرفتاریاں کرانا ، حکومتی دباؤ میں اپنے ادارے کا دفاع کرنے میں ناکام ہونا ، طلبہ کے احتجاج کو غلط رنگ دے کر پیش کرنا ، طلبہ وک معطل کرنا اور طلبہ کے خلاف نجی تفتیش کاروں کی خدمات حاصل کرنا شامل ہے۔

سینیٹ کی انتظامی کمیٹی نے واضح طور پر لکھا ہے صدر کولمبیا یونیورسٹی اس بڑے ادارے کی قیادت کرنے کی صلاحیت نہیں دکھا سکے ہیں اور انہوں نے اساتذہ و طلبہ کا اعتماد بھی کھو دیا ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *