April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

الشفاء اسپتال کے قریب رہنے والے فلسطینیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ۲؍ ہفتے کے چھاپے کے بعد آج الشفاء اسپتال چھوڑ دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اسپتال کے باہر اور اندر لاشیں ہی لاشیں ہیں۔ فوجیوں نے اسپتال کے اندر موجود قبرستان پر بلڈورزر بھی چلایا ہے۔ دو ہفتے کے دوران اسرائیلی فوجیوں نے ۴۰۰؍ سے زائد فلسطینیوں کو ہلاک اور سیکڑوں پر تشدد کیا ہے جبکہ کئی اسرائیلی حراست میں ہیں۔

Scene of destructiuon in alshifa hospital in gaza. Photo :X

غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں الشفاء اسپتال کا منظر۔ تصویر: ایکس

الشفاءاسپتال کے قریب رہنے والے فلسطینیوں نے بتایا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ۲؍ ہفتے کے چھاپے کے بعد غزہ اسپتال سے علیحدگی اختیار کی ہے اور پیچھے بڑے پیمانے پر تباہ چھوڑ گئے ہیں۔ اسرائیلی فوجیوں کے جانے کے بعد سیکڑوں فلسطینی جب الشفاء اسپتال اور اس کے اطراف علاقوں میں واپس آئے تو انہیں اسپتال کے باہر اور اندر لاشیں ملیں۔

اسرائیلی فوج نے اس چھاپے کو ۶؍ماہ کے دوران اب تک کا سب سے کامیاب آپریشن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ انہوں نے حماس اور دیگر جنگجوؤں کو قتل کیا ہے اور قیمتی انٹیلی جینس کو قبضے میں لیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: سویڈن اور جرمنی میں فلسطینی حامی مظاہرہ، غزہ میں نسل کشی ختم کرنے کا مطالبہ
محمد مہدی، جو ان فلسطینیوں میں سے ایک ہیں جو الشفاءاسپتال واپس لوٹے ہیں، نے بتایا کہیہاں کے حالات’’تباہ کن ‘‘ ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ متعدد عمارتیں نذر آتش کر دی گئی ہیں۔ انہیں اس علاقے میں ۶؍ لاشیں ملی جن میں سے دو اسپتال کے صحن میں موجود تھیں۔ دوسرے رہائشی، یحییٰ ابوعوف نے بتایا کہ اب بھی اسپتال میں مریض، بے گھر افراد اور طبی عملہ پناہ لئے ہوئے ہیں۔

تاہم، کچھ مریضوں کو قریبی اہلی اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اسپتال کے اندر قبرستان پر بلڈوزر چلایا ہے۔

ہر طرف تباہی ہی تباہی ہے: ڈاکٹر میڈس گلبرٹ

ناروے کے ڈاکٹر میڈس گلبرٹ، جنہوں نے اپنی زندگی کا خاصا حصہ غزہ میں گزارا ہے اور وہاں کے اسپتالوں میں کام کیا ہے جن میں الشفاء اسپتال بھی شامل ہے، نے کہا کہ اسرائیلی محاصرہ نے غزہ کی لیگسی کو تباہ کر دیاہ ے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اس رات غزہ کے ۷۸؍ سال پرانے اسپتال کو ختم کر دیا ہے۔ خیال رہے کہ الشفاء اسپتال کا قیام ۱۹۴۶ء میں عمل میں آیا تھاجسے غزہ کا سب سے بڑا اسپتال ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اداس دن تھا اور میرے پوری صبح روتا رہا ہوں۔دو روز قبل منتقل کئے گئے ۱۰۷؍ مریضوں کا کوئی علم نہیں جن کی حالت شدیدنازک تھی۔

چھاپے کے دوران ۴۰۰؍ فلسطینی جاں بحق، سیکڑں حراست میں
غزہ کے میڈیا آفس نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے اپنے ۱۳؍ دن کے چھاپے کے دوران تقریباً ۴۰۰؍طبی عملے، مریضوںاور بے گھر افراد کو قتل کیا ہے۔ اس ضمن میں میڈیا آفس نے اپنے بیان میں کہاتھا کہ اسرائیلی فوجیوں نے ۱۳؍ دن کے دورانیے میں ، اسپتال میں تباہ کن جرائم اور آتش زنی انجام دی ہے۔ تاہم، انہوں نے ایک ہزار سے زائد گھروں کو نشانہ بنایا ہے اور ۴۰۰؍ افراد کو شہید کیا ہے۔ فوجیوں نے اسپتال کے اندر اور اطراف میں سیکڑوں مریضوں، طبی عملے اور بے گھر فلسطینیوں کو حراست میں لیا ہے اور ٹوچر کیا ہے۔

خیال رہے کہ ۷؍ اکتوبر کو حماس کے حملے کے بعد اسرائیل نے غزہ میں اپنی جوابی کارروائیاں شروع کی تھیں جس کے نتیجے میں اب تک ۳۲؍ ہزار سے زائد فلسطینی جاں بحق جبکہ ۷۰؍ ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *