April 21, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
A residential building are partially damaged after a midnight fire in Nanjing in east China's Jiangsu province on Friday, Feb. 23, 2024. (AP)

مقامی حکام نے ہفتے کو بتایا کہ چین کے مشرقی علاقے نانجنگ میں ایک رہائشی عمارت میں آگ لگنے سے کم از کم 15 افراد ہلاک اور 44 زخمی ہو گئے۔

حکام نے ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ آگ جمعہ کی صبح لگی۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق آگ عمارت کی پہلی منزل پر لگی جہاں برقی بائیکس رکھی گئی تھیں۔

یہ عمارت نانجنگ کے یوہواتائی ضلع میں واقع ہے جو 80 لاکھ سے زیادہ نفوس کا شہر ہے اور شنگھائی سے تقریباً 260 کلومیٹر (162 میل) شمال مغرب میں واقع ہے۔

حکام نے بتایا کہ صبح 6:00 بجے (2200 جی ایم ٹی جمعرات) تک آگ پر قابو پا لیا گیا اور تلاش اور ریسکیو کی کارروائی جمعہ کی دوپہر 02:00 بجے کے قریب ختم ہو گئی تھی۔

چینی سوشل نیٹ ورکس پر گردش کرنے والی فوٹیج میں آدھی رات کو ایک فلک بوس عمارت میں آگ لگی ہوئی نظر آ رہی تھی جس سے سیاہ دھواں نکل رہا تھا۔

دیگر تصاویر میں عمارت کی کئی منازل کو خاکستر کر دینے والے بہت بلند شعلے نظر آ رہے تھے اور اندھیرے میں قریبی ایمرجنسی گاڑیوں کی روشنیاں چمک رہی تھیں۔

بظاہر بعد میں لی گئی اضافی فوٹیج میں عمارت کے کئی مقامات سے سفید دھواں نکلتا ہوا دکھایا گیا ہے۔

حکام نے مزید کہا کہ 44 زخمیوں کو علاج کے لیے ہسپتال بھیجا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ ایک کی حالت “تشویشناک” تھی جبکہ دوسرا شدید زخمی تھا۔

ایک پریس کانفرنس میں شہر کے میئر چن زیچانگ نے متأثرین کے اہل خانہ سے تعزیت اور معذرت کی۔

بار بار لگنے والی آگ

حفاظت کے کمزور معیارات اور ناقص نفاذ کی وجہ سے چین میں آتشزدگی کے اور دیگر مہلک حادثات عام ہیں۔

اور ملک نے حالیہ مہینوں میں مہلک آتشزدگی کا ایک سلسلہ دیکھا ہے جو اکثر سرکاری لاپرواہی کی وجہ سے ہوتا ہے — جس کی بنا پر گذشتہ ماہ صدر شی جن پنگ نے “گہرے غوروخوض” اور “حفاظت سے متعلقہ حادثات کے متواتر واقعات کو روکنے کے لیے” زیادہ کوششوں کا اشارہ کیا۔

جنوری میں سنیو کے وسطی شہر میں ایک اسٹور میں آتشزدگی کے بعد درجنوں افراد ہلاک ہو گئے جس کے بارے میں سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا نے رپورٹ کیا کہ آگ اسٹور کے تہہ خانے میں کارکنوں کی جانب سے آگ کے “غیر قانونی” استعمال کی وجہ سے لگی تھی۔

اس حادثے سے چند دن پہلے وسطی چین کے صوبہ ہینان کے ایک اسکول میں شام کے وقت آگ لگ گئی تھی جب اسکول کے 13 بچے ایک بڑے ہال کمرے میں سو رہے تھے۔

اسکول کے ایک ٹیچر نے سرکاری ہیبی ڈیلی کو بتایا کہ تمام متأثرین ایک ہی تیسری جماعت کے نو اور 10 سال کے بچے تھے۔

ملکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ آگ برقی ہیٹنگ ڈیوائس کی وجہ سے لگی۔

اور نومبر میں شمالی چین کے شانزی صوبے میں کوئلہ کمپنی کے دفتر میں آگ لگنے سے 26 افراد ہلاک ہو گئے اور درجنوں کو ہسپتال منتقل کیا گیا۔

اس سے ایک ماہ قبل ملک کے شمال مغرب میں ایک باربی کیو ریسٹورنٹ میں ہونے والے دھماکے میں 31 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور کام کی جگہوں کی حفاظت کو فروغ دینے کے لیے ملک گیر مہم کا حکومتی سطح پر وعدہ کیا گیا۔

اپریل میں بیجنگ میں ایک ہسپتال میں آگ لگنے سے 29 افراد ہلاک ہو گئے تھے اور بچ جانے والے کھڑکیوں سے کودنے پر مجبور ہو گئے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *