April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
اكتشاف 100 مقبرة جماعية في مدينة ترهونة الليبية

’انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن‘ نے جمعہ کو ایک بیان میں اعلان کیا کہ اس ہفتے جنوب مغربی لیبیا میں “کم از کم 65 تارکین وطن کی لاشوں” پر مشتمل ایک اجتماعی قبر ملی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادارے کے ترجمان نے ’اے ایف پی‘ کو بتایا کہ لیبیا کی سکیورٹی فورسز نے ہی قبرستان کا سراغ لگایا ہے۔

تنظیم نے اپنے گہرے صدمے اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تارکین وطن کی موت کے حالات ابھی تک معلوم نہیں ہیں۔

اس نے مزید کہا کہ “لیکن یہ خیال کیا جاتا ہے کہ ان کی موت صحرا میں سمگل کیے جانے کے دوران ہوئی تھی”۔

2011ء میں معمر قذافی کی معزولی اور قتل کے بعد سے ایک دہائی سے زیادہ عرصے پر پھیلی بدامنی کے بعد لیبیا انسانی اسمگلروں کے لیے ایک افزائش گاہ بن گیا ہے، جن پر طویل عرصے سے تارکین وطن کے خلاف ورزیوں کا الزام لگایا جاتا رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی تنظیم نے لیبیا کے حکام کی جانب سے تارکین وطن کی ہلاکتوں کی تحقیقات شروع کرنے کا خیر مقدم کیا اور ان سے مطالبہ کیا کہ وہ مرنے والے تارکین وطن کی باقیات کی بازیابی کو یقینی بنائیں، ان کی شناخت کریں اور ان کی لاشوں کو باعزت طریقے سے منتقل کریں۔ ان کے خاندان اور متاثرین کے لواحقین کو مطلع کرنے اور ان کی مدد کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔

آرگنائزیشن فار مائیگریشن کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ “لاپتہ تارکین وطن یا جان کے ضیاع کی ہر رپورٹ کا مطلب ایک غمزدہ خاندان ہے جو اپنے پیاروں کے بارے میں جوابات تلاش کر رہا ہے یا نقصان کے سانحے کی تصدیق کر رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہاکہ “ناکافی کارروائی کی قیمت اموات میں اضافے اور ان پریشان کن حالات میں واضح ہے جن میں تارکین وطن خود کو پاتے ہیں”۔

انہوں نے مزید کہاکہ “منظم راستوں کی غیر موجودگی جو قانونی نقل مکانی کے مواقع فراہم کرتے ہیں اس قسم کے سانحات اس راستے پر ہوتے رہیں گے”۔

’آئی او ایم‘ کے مسنگ مائیگرنٹس پروجیکٹ کی رپورٹ کے مطابق 2023 میں یورپ جانے والوں کی بحیرہ روم کے راستے پر 3,129 اموات اور لاپتہ ہونے کی تفصیلات سامنے آئیں۔

انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن نے اس لائن پر موجود ممالک کے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ “علاقائی تعاون کو مضبوط کریں تاکہ تارکین وطن کی حیثیت اور ان کے سفر کے مختلف مراحل سے قطع نظر ان کی حفاظت اور تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *