April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

ایک نئی مقننہ اور مجلسِ خبرگانِ رہبری کے ارکان منتخب کرنے کے لیے جمعہ کو ایرانی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ یہ مجلس اسلامی جمہوریہ ایران کے سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے ایک اہم ادارہ ہے۔

گذشتہ انتخابات کے بعد سے ایران بین الاقوامی پابندیوں سے بری طرح متأثر ہوا جس کی وجہ سے اقتصادی بحران پیدا ہوا ہے، 2022 کے آخر سے 2023 تک وسیع پیمانے پر مظاہروں سے لرز اٹھا ہے اور اسرائیل-حماس جنگ پر بڑھتی ہوئی علاقائی کشیدگی کا بھی شکار ہوا ہے۔

انتخابات کے بارے میں جاننے کے لیے یہ پانچ چیزیں اہم ہیں:

1۔ ٹرن آؤٹ کی پریشانیاں

ایران میں ہر چار سال بعد پارلیمانی اور ہر آٹھ سال بعد مجلسِ خبرگانِ رہبری کے انتخابات ہوتے ہیں۔

ایران کی 85 ملین سے زائد آبادی میں سے تقریباً 61 ملین افراد ووٹ دینے کے اہل ہیں۔

یک مرحلہ انتخابات کے لیے ایران بھر میں تقریباً 59,000 پولنگ اسٹیشن کھلیں گے، خاص طور پر اسکولوں اور مساجد میں۔

اس قیاس آرائی کے ساتھ کہ ٹرن آؤٹ کم ہوگا، ریاست کے اعلیٰ عہدیداروں نے لوگوں سے ووٹ دینے کی اپیل کی ہے۔

ایران کی موجودہ پارلیمنٹ 2020 کے انتخاب میں منتخب ہوئی جس میں صرف 42.57 فیصد ووٹ دیئے گئے جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سب سے کم ہے۔

ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن کی طرف سے کیے گئے ایک حالیہ سروے میں پتا چلا کہ نصف سے زیادہ جواب دہندگان انتخابات سے لاتعلق تھے۔

2۔ محدود کردار کے ساتھ پارلیمنٹ

290 رکنی پارلیمنٹ ایک یک ایوانی چیمبر ہے جو مجلسِ شوریٰ اسلامی کے نام سے معروف ہے۔

امیدوار صرف شوریٰ نگہبان کی جانچ پڑتال کے بعد کھڑے ہو سکتے ہیں جس کے ارکان سپریم لیڈر کی طرف سے مقرر یا منظور کیے جاتے ہیں۔

شوریٰ نگہبان کے فقہاء نے تقریباً 49,000 درخواست دہندگان میں سے تقریباً 15,200 امیدواروں کے پارلیمنٹ کی نشستوں کے لیے انتخاب لڑنے کی منظوری دی ہے۔

پارلیمنٹ کے اختیارات محدود ہیں اور اسے کوئی بھی قانون پاس کرنے کے لیے شوریٰ نگہبان سے فقہاء کی منظوری درکار ہوتی ہے۔

مقننہ میں مذہبی اقلیتوں کے نمائندے شامل ہیں جنہیں ایران کے آئین نے تسلیم کیا ہے جس میں آشوریوں، یہودیوں اور زرتشتیوں کے لیے ایک ایک اور آرمینیائی عیسائیوں کے لیے دو شامل ہیں۔

3۔ قدامت پسند بااختیار

پارلیمانی نشستوں کے امیدواروں کا تعلق زیادہ تر دو اہم کیمپوں سے ہے: قدامت پسند اور اصلاح پسند۔

ایران کی موجودہ پارلیمنٹ میں قدامت پسندوں اور انتہائی قدامت پسندوں کا غلبہ ہے اور مبصرین کو توقع ہے کہ نئی پارلیمنٹ کی بھی اسی طرح کی صورت ہوگی۔

متعدد موجودہ پارلیمنٹیرینز کو دوبارہ انتخاب کے لیے نااہل قرار دے دیا گیا ہے۔

بعض اصلاح پسندوں نے انتخابات پر تنقید کی ہے جن میں سابق صدر محمد خاتمی کے حوالے سے اس ماہ قدامت پسند روزنامہ جاون نے کہا تھا، ایران “آزادانہ اور مسابقتی انتخابات سے بہت دور ہے۔”

4۔ سپریم لیڈر کا انتخاب

مجلسِ خبرگانِ رہبری ایک 88 رکنی ادارہ ہے جو خصوصی طور پر مرد اسلامی سکالرز پر مشتمل ہے۔

اسے منتخب کرنے، نگرانی کرنے اور اگر ضروری ہو تو سپریم لیڈر کو برطرف کرنے کا کام سونپا جاتا ہے جس کے پاس ریاست کے تمام معاملات میں حتمی فیصلے کا اختیار ہوتا ہے۔

اسلامی جمہوریہ کی بنیاد رکھنے والے روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد مجلس نے موجودہ سپریم لیڈر 84 سالہ علی خامنہ ای کو 1989 میں منتخب کیا۔

97 سالہ انتہائی قدامت پسند احمد جنتی مجلس کے موجودہ سربراہ ہیں۔

مجلس کے امیدواروں کی جانچ شوریٰ نگہبان بھی کرتی ہے جس نے ان میں سے 144 کی منظوری دی۔

24 سال بطور رکن گذارنے والے سابق اعتدال پسند صدر حسن روحانی نے کہا کہ انہیں کھڑے ہونے سے روک دیا گیا ہے۔

5۔ خواتین کی نمائندگی

ایران میں خواتین کو ووٹ دینے کا حق ہے اور ان کی تعداد 30 ملین ہے۔

وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق نشستوں کے لیے دوڑ میں شامل ہونے والے امیدواروں کی کل تعداد میں سے تقریباً 12 فیصد خواتین ہیں۔

سرکاری خبر رساں ایجنسی آئی آر این اے کے مطابق موجودہ پارلیمنٹ میں 16 خواتین ارکان ہیں۔

ستمبر 2022 میں 22 سالہ مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد یہ پہلے انتخابات ہوں گے۔

امینی کو خواتین کے لیے اسلامی جمہوریہ کے سخت ضابطۂ لباس کی خلاف ورزی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان کی موت کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرے ہوئے جس میں درجنوں سکیورٹی اہلکاروں سمیت سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *