April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
Former US national security advisor John Bolton at Duke University in Durham, North Carolina. (File Photo: Reuters)

اقوامِ متحدہ میں سابق امریکی سفیر نے العربیہ کو بتایا کہ ایران “دنیا میں دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی سرپرست ہے” جبکہ سات اکتوبر کے حملے کے بعد تہران کے حمایت یافتہ فلسطینی، لبنانی اور یمنی مسلح گروپ مہینوں سے جاری تنازع میں اسرائیل کے ساتھ مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔

جان بولٹن جو ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں قومی سلامتی کے مشیر تھے اور امریکی صدور رونالڈ ریگن اور جارج ڈبلیو بش کے دور میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں، نے کہا کہ شرقِ اوسط میں ان پراکسی گروپوں کے ساتھ تہران کی شمولیت پاسداران انقلاب کے مقتول کمانڈر قاسم سلیمانی کی حکمتِ عملی کا حصہ ہے، جس کا مقصد اسرائیل کو الگ تھلگ کرنا اور گھیرنا ہے۔

بولٹن نے العربیہ کے رض خان سے بات کرتے ہوئے کہا، “میرے نزدیک ہتھیاروں کے پھیلاؤ کے زمرے میں ایران شمالی کوریا کے ساتھ ساتھ اول درجے پر ہے۔” انہوں نے کہا، “میں نے بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں بالخصوص جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے میں اپنی دلچسپی کی وجہ سے طویل عرصے تک ایران پر توجہ مرکوز کی۔”

غالب امکان ہے کہ اسرائیل کے اندھا دھند حملے رفح پر حملے کے ساتھ بڑھیں گے، جس کے بارے میں ماہرین اور این جی اوز کہتے ہیں کہ یہ لاکھوں بے گھر ہونے والوں کے زندہ رہنے کے امکانات کو ختم کر دیں گے۔

یہ جنگ میں اضافے کی نشاندہی بھی کرے گا جسے علاقائی اور بین الاقوامی طاقتیں جنگ بندی کی تجاویز کے ذریعے کم کرنے کی امید کر رہی ہیں۔ اس تجویز کو متحارب فریقوں نے ابھی تک قبول نہیں کیا ہے۔

یہ بتاتے ہوئے کہ اسرائیل-حماس جنگ “پہلے سے وسیع تر ہے”، بولٹن نے ایران پر الزام لگایا کہ وہ اپنے پراکسیوں کو اس ارادے سے مسلح کر رہا ہے کہ جب تہران تنازع کے لیے تیار ہو جائے تو انہیں استعمال کرے۔

سابق امریکی اہلکار نے کہا، “میرے خیال میں شرقِ اوسط کے ہر تنازعے میں ایران کا ہاتھ ہے۔ مجھے نہیں لگتا کہ حماس ایک صبح اٹھی اور اس نے اسرائیل پر حملہ کر دیا۔”

بولٹن نے کہا، “شرقِ اوسط میں جاری تنازعہ میں یہ خاصا ضروری ہو سکتا ہے کہ ایران میں آیت اللہ کو ان کی جارحیت کی قیمت چکانی پڑے۔ ہمیں ایسا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اگر آپ طاقت کے استعمال کے لیے تیار نہیں ہیں تو آپ کبھی بھی انسدادی حکمتِ عملی قائم نہیں کر سکتے جو امن و سلامتی کی اصل کلید ہے۔”

جی سی سی کے کچھ ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خواہشمند تھے، جس کا حوالہ دیتے ہوئے بولٹن نے کہا: “میرے خیال میں یہ عمومی تجویز کہ عرب دنیا خاص طور پر خلیجی عرب ریاستیں اسرائیل کے خلاف اپنی دشمنی سے ہٹ گئی ہیں، یہ خلیج کی جغرافیائی سیاست میں ایک بنیادی تبدیلی ہے جو علاقائی بالادستی اور اسلام کے اندر بالادستی کی ایرانی امنگوں کے لیے خطرہ بن گئی۔”

اسرائیل کے ساتھ تعلقات کا قیام

اسرائیل نے اپنے شرقِ اوسط کے ہمسایوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ تعلقات پر زور دیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کی اپنی امیدوں کو بالکل پوشیدہ نہیں رکھا ہے۔ پھر بھی سعودی مملکت نے بارہا کہا ہے کہ وہ اس وقت تک ایسا نہیں کرے گا جب تک کہ مشرقی یروشلم کے ساتھ 1967 کی سرحدوں پر مبنی ایک فلسطینی ریاست قائم نہ ہو۔

سات اکتوبر کو جنگ شروع ہونے سے پہلے سعودی عرب نے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ تعلقات استوار کرنے کے اپنے ارادے کا اشارہ دیا تھا بشرطیکہ فلسطینیوں کے ساتھ رعایتیں دی جائیں۔ یہ ایک ایسا اقدام تھا جس میں مملکت متحدہ عرب امارات، بحرین اور جی سی سی کے دو ہمسایہ ممالک کے ساتھ شامل ہو جاتی جنہوں نے اسرائیل-امریکہ کے حمایت یافتہ ابراہیم معاہدے کے تحت تاریخی امن معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

جنگ بندی کا امکان

حماس کے سیاسی بیورو کے میزبان قطر نے کہا کہ وہ جنگ میں تؤقف کے لیے پرامید ہے اور مسلمانوں کے مقدس مہینے رمضان سے پہلے ایک معاہدے پر زور دے رہا ہے۔

تازہ ترین جنگ میں جنگ بندی کوئی نیا تصور نہیں ہے۔ نومبر 2023 میں لڑائی میں ایک ہفتے کے وقفے میں سو سے زیادہ یرغمالیوں بشمول 80 اسرائیلیوں کو اسرائیل میں قید تقریباً 240 فلسطینیوں کے بدلے رہا کیا گیا تھا۔

قطر کے ساتھ ساتھ امریکہ، مصر اور دیگر علاقائی شراکت دار بھی فعال طور پر مذاکرات میں ثالثی کر رہے ہیں لیکن ہر طرف سے ملے جلے اشاروں کی وجہ سے یہ واضح نہیں ہے کہ آیا رمضان تک جنگ بندی نافذ ہو جائے گی۔

اس مرکب میں اضافہ عرب ریاستوں کی پیش کردہ جنگ بندی قراردادوں پر اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں امریکہ کا مستقل ویٹو ہے۔

گذشتہ ہفتے امریکہ نے ایک قرارداد کو ویٹو کر دیا جس میں غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا تھا جس پر اتحادیوں اور روس اور چین جیسی دیگر سپر پاورز کی جانب سے شدید تنقید کی گئی تھی کیونکہ انتخابی صدر جو بائیڈن کو اسرائیل کی حمایت پر نظرِ ثانی کرنے کے لیے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔

یہ کہتا ہے کہ امریکہ کی طرف سے قابلِ قبول قرار داد کے متبادل ورژن پر کام جاری ہے لیکن اس میں جنگ بندی کی شقوں کو کافی حد تک حل نہیں کیا گیا ہے۔

اس وقت تک رفح پر اسرائیلی حملے کا امکان ہے کیونکہ فضا اور زمین پر اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں سینکڑوں فلسطینی جاں بحق ہو سکتے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *