April 20, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
شعار جماعة الإخوان

مصر کی ایک فوج داری عدالت نے کالعدم مذہبی جماعت اخوان المسلمون کے مرشد عام محمد بدیع، قائم مقام سربراہ محمود عزت، محمد البلتاجی، عمر زکی، اسامہ یاسین، صفوت حجازی، عاصم عبدالماجد اور محمد عبدالمقصود کو ‘منصہ‘کیس میں سزائے موت سنائی ہے۔

عدالت نے 2021ء کے کیس نمبر 72 میں بھی فیصلہ سنایا جو کہ 2021ء کے نیو قاہرہ ڈسٹرکٹ کورٹ میں کیس نمبر نو کے طور پر درج ہے۔ اس کیس میں 37 ملزمان کوعمر قید اور 21 دیگر رہا کر دیا گیا۔ اس کے علاوہ چھ مدعا علیہان کو 15 سال قید با مشقت اور اور سات کو 10 سال قید با مشقت کی سزا سنائی گئی۔

کیس کا آغاز

سپریم اسٹیٹ سکیورٹی پراسیکیوشن نے پلیٹ فارم کے واقعات کے کیس کو اپریل 2021ء میں اسٹیٹ سکیورٹی کریمینل کورٹ کو ریفر کیا۔ پہلے دہشت گردی کے سرکٹ کے لیے کیس کے پہلے سیشن کی سماعت 6 جون 2021ء کو طرہ کورٹس کمپلیکس میں عدالت کے ہیڈ کوارٹر میں ہوئی تھی۔

محمد بدیع

محمد بدیع

اس کے بعد مقدمے کو بدر شہر میں اصلاحی اور بحالی مرکزکی اپیل کورٹس کے کورٹ کمپلیکس میں منتقل کر دیا گیا اور لگاتار سماعتوں کے دوران عدالت نے ملزمان کے مقدمے پر غور کیا۔

آئین اور قانون کی عمل داری میں خلل ڈالنا

ستمبر2021ء میں عدالت نے پلیٹ فارم ایونٹس کیس میں مدعا علیہان کو ریفر کرنے کے حکم کی سماعت کی جہاں پبلک پراسیکیوشن نے پہلے سے چھٹے مدعا علیہان پر الزام لگایا کہ انہوں نے جولائی 2013ء کے دوران نصر سٹی سیکنڈ ڈویژن اخوان کی قیادت سنھبالتے ہوئے آئین اور قانون خلاف ورزی، آئین اور قانون کی دفعات میں خلل ڈالنے، ریاستی اداروں اور کار سرکار میں مداخلت کی گئی، شہریوں کی ذاتی آزادی اور عوامی آزادیوں پر حملے کیے گئے۔ انہوں نے آئین اور قانون کے ذریعے ضمانت شدہ حقوق، قومی اتحاد اور سماجی امن کو نقصان پہنچایا۔

صفوت حجازی جیل کے اندر سے

صفوت حجازی جیل کے اندر سے

ریفرل آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ “پہلے ملزم نے اخوان کی قیادت سنبھالی اور اس کے “مرشد عام ” کا عہدہ سنھبالا۔ دوسرے سے لے کر چھٹے ملزمان نے اخوان کی شوریٰ کونسل اور دعوت وارشاد کی رکنیت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ اس گروپ کا مقصد طاقت کے ذریعے حکومت کو تبدیل کرنا اور فورسز کے اہلکاروں اور تنصیبات پر حملہ کرنا، مسلح افواج، پولیس،اور عوامی تنصیبات اور دہشت گردی پھیلانا تھا۔

انہوں نے قانون کی شقوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قائم کردہ گروہ کو ہتھیار، گولہ بارود اور آگ لگانے والے آلات فراہم کر کے اس گروہ کو مادی امداد فراہم کی۔ انہوں نے اور نامعلوم دیگر افراد نے ایک اجتماع منعقد کیا جس کا مقصد دہشت گردی کے مقاصد کے لیے منصوبہ بند قتل عام اور سرکاری اہلکاروں کے ساتھ طاقت، تشدد اور دھمکیوں کا استعمال کرتے ہوئے انہیں دہشت گردی کی کارروائی سے باز رہنے پر مجبور کرنا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *