April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253

مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں تقریباً 13 ملین ڈالر مالیت کی بیش قیمت گھڑیاں غائب ہیں جب ایک کرائے پر لی گئی سائٹ بند ہو گئی اور اس کا مالک دبئی فرار ہو گیا۔

رولیکس اور دیگر قیمتی ٹائم پیس کے مالکان اوساکا میں قائم ٹوک میچ کو قرض دے کر ماہانہ ڈپازٹ فیس حاصل کرتے تھے جو پھر انہیں گاہکوں کو کرائے پر دے دیتے تھے۔

ٹوک میچ چلانے والی کمپنی نیو ریورس نے 31 جنوری کو اپنی سروس ختم کرنے کا اعلان کیا اور وعدہ کیا کہ وہ تمام گھڑیاں واپس کر دے گی۔

روزنامہ آساہی شمبن اور دیگر میڈیا آؤٹ لیٹس نے تقریباً 190 مالکان کے ایک گروپ کا حوالہ دیتے ہوئے اطلاع دی کہ 1.9 بلین ین (12.6 ملین) مالیت کی قریباً 900 گھڑیوں کے مالکان کو ان کی ملکیت دوبارہ نہیں ملی۔

حتیٰ کہ کچھ گھڑیاں آن لائن نیلامی کی سائٹ پر بھی دیکھی گئی ہیں جس پر مالکان نے جاپان میں اردگرد کی پولیس کو درجنوں شکایات درج کروا دیں۔

نیلامی سائٹ کے آپریٹر ویلیوئنس جاپان نے اے ایف پی کو بتایا کہ اس نے جو سودے کیے، ان میں سے کم از کم 20 گھڑیوں کے سیریل نمبرز ٹوک میچ کے لیے قرض کے طور پر لی گئی سے گھڑیوں سے مماثل تھے۔

ایک ترجمان نے گذشتہ ہفتے کہا، “ہم نے فوری طور پر ان گھڑیوں کی گردش روک دی تاکہ دوبارہ فروخت کے ذریعے مزید نقصانات کو روکا جا سکے۔”

انہوں نے کہا کہ ٹوک میچ سروس ختم ہونے سے پہلے آدھی گھڑیاں نیلامی کی سائٹ پر موجود تھیں۔

شیئرنگ اکانومی ایسوسی ایشن، جاپان نے ایک بیان میں کہا کہ اسے اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ کچھ گھڑیاں سیکنڈ ہینڈ اسٹورز میں بھی گردش کر رہی تھیں۔

ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ جاپان کی “شیئرنگ اکانومی” مارکیٹ کا حجم تیزی سے بڑھ رہا ہے جو گذشتہ مالی سال میں 2.6 ٹریلین ین (17 بلین) تک پہنچ گیا ہے۔

نیو ریورس کمپنی تنظیم کے تقریباً 400 اراکین میں سے ایک تھی لیکن مالکان کی طرف سے ان کی گھڑیاں واپس نہ کرنے کی شکایات کے بعد یکم فروری کو اسے فہرست سے ہٹا دیا گیا۔

جیجی پریس نے بدھ کو تفتیشی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ ٹوکیو پولیس نے رولیکس گھڑی کے غبن کے شبہ میں ٹوک میچ کے مالک 42 سالہ تاکازومی کومیناٹو کی گرفتاری کا وارنٹ حاصل کر لیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان پر شبہ ہے کہ انہوں نے جنوری میں ایک مالک سے 650,000 ین میں قرض کے طور پر حاصل کردہ رولیکس ایک سیکنڈ ہینڈ ڈیلر کو فروخت کر دی تھی۔

جیجی نے کہا، البتہ کومیناٹو فروری کے آخر میں جاپان سے دبئی کے لیے پرواز کر گئے تھے اور پولیس انہیں مطلوبہ افراد کی بین الاقوامی فہرست میں شامل کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *