April 15, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
South African, left, and Israel's delegation, right, stand during session at the International Court of Justice, or World Court, in The Hague, Netherlands, Friday, Jan. 26, 2024. Israel is set to hear whether the United Nations' top court will order it to end its military offensive in Gaza during a case filed by South Africa accusing Israel of genocide. (AP Photo/Patrick Post)

جنوبی افریقہ نے بدھ کے روز بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) سے درخواست کی ہے کہ وہ اسرائیل پر تازہ ہنگامی اقدامات نافذ کرے جسے اس نے “بڑے پیمانے پر بھوک” کے طور پر بیان کیا ہے جو اسرائیل کی غزہ پر جارحیت کے نتیجے میں واقع ہوئی ہے۔

یہ دوسرا موقع ہے جب پریٹوریا نے عدالت سے اضافی اقدامات کے لیے کہا ہے – فروری میں اس کی پہلی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔

جنوبی افریقہ نے کہا کہ وہ جارحانہ کارروائی کے دوران “نئے حقائق اور غزہ کی صورتِ حال میں تبدیلیوں – خاص طور پر بڑے پیمانے پر فاقہ کشی کی صورتِ حال” کی روشنی میں عدالت سے رجوع کرنے پر مجبور ہوا ہے ۔

پریٹوریا نے کہا کہ اس کی درخواست شاید “غزہ میں فلسطینی عوام کو بچانے کے لیے اس عدالت کو ملنے والا آخری موقع ہو جو پہلے ہی بھوکے مر رہے ہیں اور اب قحط سے صرف ‘ایک قدم’ کے فاصلے پر ہیں۔” پریٹوریا نے یہ بات اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور کا حوالہ دیتے ہوئے کہی۔

اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ قحط سر پر منڈلا رہا ہے اور مایوس ہجوم نے خوراک کی امدادی ٹرک روک کر لوٹ لیے ہیں۔

حماس کے زیرِ انتظام فلسطینی علاقے کی وزارتِ صحت نے کہا کہ سات اکتوبر کو حماس کے حملے سے شروع ہونے والی غزہ جنگ کے دوران خوراک اور پانی کی شدید قلت سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

جنوری کے وسط میں دنیا بھر کے اخبارات میں شہ سرخیاں بننے والے ایک فیصلے میں دی ہیگ میں قائم آئی سی جے نے اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ غزہ میں اپنی جارحیت کے دوران نسل کشی کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

عدالت نے یہ بھی فیصلہ دیا کہ اسرائیل کو غزہ میں امداد کی اجازت دینی چاہیے تاکہ وہاں کی مایوس کن انسانی صورتِ حال کو کم کیا جا سکے۔

یہ نام نہاد “عارضی اقدامات” تھے جو اسرائیل کو ہنگامی طور پر کرنے کی ضرورت تھی جبکہ عدالت اس وسیع مسئلے کا جائزہ لے رہی ہے کہ آیا وہ غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کر رہا ہے یا نہیں — جس میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔

جنوبی افریقہ نے اسرائیل پر الزام لگایا ہے کہ وہ غزہ میں اپنی فوجی مہم کے دوران 1948 کے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کر رہا ہے — جو دوسری جنگ عظیم اور ہولوکاسٹ کے بعد قائم کیا گیا تھا۔

پریٹوریا نے جنوری کے فیصلے کو فتح قرار دیا اور کہا کہ اس سے جنگ بندی ہونی چاہیے۔

تاہم فروری کے وسط میں عدالت نے جنوبی افریقہ کی طرف سے اسرائیل پر غزہ کے شہر رفح کے خلاف کارروائی روکنے کے لیے دباؤ ڈالنے کی درخواست کو مسترد کر دیا۔

اسرائیل نے پوری عدالتی کارروائی کو مسترد کر دیا ہے۔

وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے جنوری میں کہا تھا کہ اسرائیل کے خلاف الزام “نہ صرف جھوٹا بلکہ یہ اشتعال انگیز ہے اور ہر جگہ مہذب لوگوں کو اسے مسترد کرنا چاہیے”۔

اسرائیل نے سماعتوں کے دوران اس بات پر زور دیا کہ وہ 7 اکتوبر کے حماس کے حملوں کے بعد ذاتی دفاع میں کارروائی کر رہا ہے اور شہریوں کی حالتِ زار کو کم کرنے کے لیے اپنی طاقت سے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل کی جوابی کارروائی میں کم از کم 30,717 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *