April 13, 2024

Warning: sprintf(): Too few arguments in /www/wwwroot/station57.net/wp-content/themes/chromenews/lib/breadcrumb-trail/inc/breadcrumbs.php on line 253
The US Army has dispatched a ship to send humanitarian aid to Gaza, Central Command (CENTCOM) said on Sunday, days after President Joe Biden vowed to build a temporary pier to supply the besieged enclave. (X)

مریکہ نے غزہ سے متصل بحر متوسط میں اپنی عارضی بندر گاہ کے لیے سامان امریکہ سے روانہ کر دیا ہے۔ یہ جہاز امریکی صدر جوبائیدن کے اس اعلان کے بعد روانہ کیا گیا ہے جس میں صدر نے کہا تھا کہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل کا اہتمام بحری راستوں سے بھی کیا جائے گا۔ امریکی فوج نے اتوار کے روز اس پیش رفت کے بارے میں باضابطہ طور پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

پچھلے پانچ ماہ سے زیادہ عرصے سے اسرائیل نے غزہ کی تباہ کر دی گئی پٹی کو مسلسل محاصرے میں لے رکھا ہے اور زمینی محاصرے کے علاوہ اسرائیل کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے غزہ میں انسانی بنیادوں پر امدادی سامان کی ترسیل تقریباً ناممکن ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ اس صورت حال کو غزہ میں قحط زدگی کے خطرے کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔

اس تنا ظر میں امریکہ نے تقریبا ایک ہفتہ قبل فضائی راستے سے غزہ میں انسانی بنایدوں پر خوارک گرانے کا اہتمام کیا تھا ۔ پہلے روز 38000 افراد کے کھانے کا اہتمام کیا تھا۔ بعد ازاں دو روز قبل امریکہ کی طرف سے ایک ‘ائیر ڈراپ ‘ کے ذریعے 40000 کھانے غزہ میں گرائے گئے ہیں۔

لیکن اب امریکی سینٹ کام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی ریاست ورجینیا سے ایک جہاز روانہ کیا گیا ہے ۔ یہ جہاز عارضی بندر گاہ کی تعمیر سے متعلق سامان اور لاجسٹک کی دوسری سہولیات کے ساتھ بھیجا گیا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ کے لیے بحری راستے سے امدادی سرگرمیاں شروع کرنے سے پہلے عارضی بندرگاہ بنائی جائے گی۔

امریکی صدر جوبائیڈن نے اپنے سٹیٹ یونین خطاب میں بھی کہا تھا کہ امریکی بحریہ بھی غزہ میں انسانی امداد کے لہے بروئے کار آئے گی۔

امریکہ اور دوسرے ملکوں کی طرف سے امدادی سامان کی فضائی اور بحری راستے سے تقسیم پر تنقید بھی کی جارہی ہے کہ یہ سارا اہتمام زمینی راستے سے امدادی سامان کی منتقلی کے نظام کا متبادل نہیں ہو سکتا ہے۔ تاہم امریکہ اس سلسلے میں غیر معمولی کمٹمنٹ دکھا رہا ہے۔

اگرچہ مصنوعی سیارے کے ذریعے بحر متوسط سے غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے والی ایک نو تعمیر شدہ اسرائیلی سڑک کی سامنے آنے والی تازہ تصاویر نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ بحر متوسط سے غزہ کی پٹی کو تقسیم کرنے والی سڑک جڑی ہوئی ہو گی۔

تاہم اس بارے میں ابھی یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ امریکہ کی نئی عارضی تعمیر کی جانے والی بندرگاہ کا استعمال انسانی بنیادوں پر امدادی نوعیت کا ہی رہے گا یا یہ ایک فوجی ضرورت کے ساتھ ساتھ حوثیوں کے حملوں کے دوران اسرائیل کے لیے لاجسٹک کا بھی امکان پیدا کرے گی۔

امریکی حکام کے مطابق امریکہ ابتدائی طور قبرص کی مدد سے غزہ کے لیے سامان کی بحری ترسیل کے امکانات کو دیکھ رہا ہے۔ غزہ میں اس وقت 23 لاکھ فلسطینی بے گھر ہیں اور 80 فیصد آبادی قحط کی زد میں ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *